کامران علی شاہ
پشاور:احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی سکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال اور ان کی اہلیہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
پشاور میں احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی سکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال اور ان کی اہلیہ کو عدالت میں پیش کیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق، قیصر اقبال اور ان کی اہلیہ پر 34 ارب روپے کے غبن کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طورخم سرحد غیرقانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کیلئے 20 روز بعد کھول دی گئی
دونوں ملزمان کے گھر سے چھاپے کے دوران 14 ارب روپے برآمد ہوئے، جبکہ گزشتہ روز مزید 20 کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔ ریکوری میں سونا، قیمتی گاڑیاں اور دیگر قیمتی اثاثے بھی شامل تھے۔
احتساب عدالت کے جج امجد ضیاء نے قیصر اقبال اور انکی اہلیہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں : رورل اکنامک پراجیکٹ میں تاخیر ناقابل قبول ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکا واضح پیغام
عدالت کے فیصلے کے بعد دونوں میاں بیوی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 30 اکتوبر کو مذکورہ مرکزی ملزم قیصر اقبال کے گھر سے مزید 20 کروڑ روپے برآمد کئے گئے تھے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 10،10 کروڑ روپے برآمد کیے ۔ رقم رنگ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی جس کی نشاندہی ان کی گرفتار اہلیہ نے کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور، پولیس وردی میں ڈکیتیاں کرنیوالے 4 ڈاکو ہلاک، 3 افغان شہری نکلے
نیب کے مطابق قیصر اقبال سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ اپر کوہستان میں اگست 2013 سے بطور کلرک اور بعد میں ہیڈ کلرک تعینات رہے۔اس دوران انہوں نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات تیار کر کے سرکاری خزانے سے رقم غیر قانونی طور پر نکالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔





