خولہ اقبال
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کا تاریخی علاقہ چوک یادگار آج بھی شہر کی مالیاتی تاریخ کا ایک خاموش گواہ جھللک ہے۔ اسی مقام پر، قیامِ پاکستان سے قبل ایک بینک قائم کیا گیا تھا جس کا نام دی آسترالیشیا بینک (The Australasia) تھا۔
آسترالیشیا بینک کی بنیاد 3 دسمبر 1942ء کو لاہور میں رکھی گئی۔بینک کے بانی خواجہ بشیر بخش تھے، جو ایک معروف ریشم کے تاجرکا بیٹاتھا۔ اُن کے والد کشمیری نژاد تھے اور کم عمری میں یتیم ہونے کے بعد لاہور میں میقم ہو گئے تھے۔ ریشم کے کاروبار میں مہارت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے بمبئی اور پھر آسٹریلیا میں کاروبار کیا۔ ان ہی تجربات نے خواجہ بشیر بخش کو جدیدمالی امورکے ادارے کے قیام کی طرف دلچسپی دی۔
قیامِ پاکستان سے قبل، آسترالیشیا بینک کی ایک اہم شاخ پشاور کے تاریخی چوک یادگار میں قائم کی گئی۔بینک کی یہ شاخ اُس وقت صوبہ خیبر پختونخوامیں مالیاتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھی جاتی تھی۔ آج بھی چوک یادگار کے علاقے میں اُس بینک کی پرانی عمارت پر “Australasia Bank” کے الفاظ مدہم مگر واضح نظر آتے ہیں۔
1970 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قومیانے کی پالیسی کے تحت، آسترالیشیا بینک کو دیگر بینکوں—سرحد بینک، لاہور کمرشل بینک، اور پاکستان بینک کے ساتھ ضم کر دیا گیا۔یوں یہ ادارہ پاکستان کے پانچ بڑے قومی بینکوں میں شامل ہو گیا۔
نذیم احمد صدیقی جواس وقت ایسٹراشیا بینک کی عمارت کے مالک ہیں انھوں نے بتایاخواجہ بشیر کی وفات کے بعد،چونکہ کوئی اولاد نہیں تھی ،ورثاء کی جانب سے قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ عمارت 1987 میں ان کے خاندان کو فروخت کی گئی ۔
احمد صدیقی کے مطابق، سن 2002 تک اس عمارت میں الائیڈ بینک موجود تھاتاہم بعد میںالائیڈ بینک نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے زمینی منزل پر نئی جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیاکیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت کا نام تبدیل اس لئےنہیں کیا گیا کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی،یہ عمارت آسترالیشیابینک سے کافی مشہور تھے۔انہوں نے وضاحت کی کہ عمارت میں کسی قسم کی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ صرف تقسیم (پارٹیشن) کی گئی ہے،تاکہ اسے گودام، دکانوں اور دفاتر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہیں۔
احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ خود ایسٹراشیا بینک کے دور کے گواہ نہیں ہیں کیونکہ اس وقت وہ صرف چھ سال کے تھے، البتہ انہوں نے اس عمارت میں الائیڈ بینک کے کام کو کرتےہوئے ضرور دیکھا۔
الائیڈ بینک یہاں سے منتقلی کے بعد اب گھنٹہ گھر پشاور میں واقع ہیں۔پشاورکی یہ تاریخی عمارت آج بھی ماضی کی ایک جھلک پیش کرتی ہےجہاں تجارت، مالی اعتماد، اور جدید معیشت کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔





