وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان سزایافتہ ہونے کی وجہ سے کابینہ بنانے کے مجاز نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس کسی بھی شخص کو رہا کرنے یا گرفتار کرنے کا اختیار صرف قانونی دائرے میں ہے اور یہ تاثر کہ بانی کو حکومت نے قید میں رکھا ہوا ہے درست نہیں۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ریلیف عدالتوں سے ملنا ہے اور سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا حکومت کے مفاد میں ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فواد چودھری کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے اور اگر وہ یا ان کے ساتھی ثالثی کرانا چاہتے ہیں تو ان کی بات سنی جائے گی لیکن سب سے پہلے انہیں بانی سے ملاقات کا حق حاصل ہے جو ان کی فیملی کا پہلا حق ہے۔
طارق چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نے دوبار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو فون کیا اور پی ٹی آئی کے بیانات سے شہدا کے ورثا کے دل دکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ایک قدم پیچھے، حکومت ایک قدم آگے بڑھے، فواد چودھری
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست میں نظریے کے اختلافات ذاتی دشمنی نہیں ہوتی اور کوئی بھی تجویز جو امن لانے میں مدد کرے، اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔





