اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے امور کشمیر گلگت بلتستان اور سیفران امیر مقام نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا جاری رہنا تمام سیاسی جماعتوں اور ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سہیل آفریدی سے متعلق تمام ویڈیوز کا فرانزک ہونا چاہیے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن قائم کرنے کے لیے ہر فریق کے ساتھ بیٹھنے اور تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و ترقی لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں خوشحالی اور استحکام ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک و قوم کے مفاد میں جو بھی بات کرے گا، حکومت اس کے ساتھ تعاون کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن کے قیام کے لیے صرف کانفرنس بلانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔
قومی سلامتی کے حوالے سے بلائے گئے اجلاس میں پی ٹی آئی کی سنجیدگی نہ دکھانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے تمام صوبوں اور جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر ہونا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی وجہ سے معصوم شہری ہلاک ہو رہے ہیں، اور پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے، مگر دہشتگردی برداشت نہیں کی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کو عالمی سطح پر بڑا عہدہ مل گیا
امیر مقام نے پیپلز پارٹی کے حوالے سے کہا کہ یہ پارٹی ایک معاہدے کے تحت حکومت میں ان کی شراکت دار ہے اور یہ اتحادی رہیں گے۔
تاہم آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، جبکہ مسلم لیگ ن کے اراکین اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں گے۔





