ڈرگ فری پشاور مہم میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگی، ڈپٹی ڈائریکٹر معطل، محمد نعیم کو اضافی چارج سونپ دیا گیا
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی ’’ڈرگ فری پشاور‘‘ مہم میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آ گئی ہیں، جس سے مہم کی شفافیت اور ساکھ پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
مانیٹرنگ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، مہم کے دوران فنڈز کی غیر مناسب تقسیم اور مالیاتی بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہوئی، جس کے نتیجے میں سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ خیبرپختونخوا کے ڈپٹی ڈائریکٹر نور محمد کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معطلی کے دوران ان کی جگہ اسٹنٹ ڈائریکٹر محمد نعیم کو ڈپٹی ڈائریکٹر کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مہم کے لیے مختص فنڈز کا ایک بڑا حصہ اصل مقصد کے بجائے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ بعض اہم افراد کے نام بھی ابتدائی رپورٹ میں سامنے آ چکے ہیں، جن پر اس مالی بدعنوانی میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ یہ مہم صوبے میں منشیات کے خلاف ایک اہم قدم تھی، مگر مالی بدعنوانیوں کے باعث اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ ذمہ داران کی نشاندہی اور مناسب کارروائی کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، تفصیلی رپورٹ میں مزید بڑی شخصیات کے نام بھی سامنے آ سکتے ہیں، اور سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ میں مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ آئندہ کے لیے ایسی مہمات میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔





