پشاور: حیات آباد برن اینڈ ٹراما سینٹر میں صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولت عارضی طور پر معطل ہونے کے باعث جھلسنے والے مریض شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مریض اور اُن کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ برن سینٹر میں علاج کے اخراجات برداشت کرنا عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہے، جس کی وجہ سے وہ مہنگی ادویات اور ضروری سامان بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق متاثرہ مریضوں کے لواحقین نے بتایا کہ صحت کارڈ کی معطلی نے مالی بوجھ مزید بڑھا دیا ہے اور کئی مریض علاج مکمل نہ کروا پانے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
ان کے مطابق جھلسنے کے کیسز میں روزانہ ڈریسنگز، انجکشنز اور اینٹی بایوٹکس کی ضرورت ہوتی ہے، جو عام آدمی کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں۔
حیات آباد برن سینٹر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال اپنی دستیاب صلاحیت کے مطابق مریضوں کو علاج کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے، تاہم صحت کارڈ کے تحت علاج عارضی طور پر معطل ہے اور یکم دسمبر سے دوبارہ بحال کردیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : وزیرِ اعظم، مریم نواز، محسن نقوی اور گورنر پنجاب و سندھ نے قومی ٹیم کو ون ڈے سیریز جیتنے پر مبارکباد دی
مریضوں کے لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت کارڈ کی بحالی کے عمل کو مزید مؤخر نہ کیا جائے کیونکہ برن سینٹر صوبے بھر میں جھلسنے والے مریضوں کے لیے واحد اسپتال ہے جہاں انہیں علاج میسر ہے۔
اس موقع پر ترجمان نے کہا کہ صحت کارڈ کی معطلی سے غریب اور کم آمدنی والے مریضوں پر بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے، جسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے تاکہ مریض بلا کسی رکاوٹ کے علاج کروا سکیں۔





