دنیا بھر میں ہلچل مچانے والی ’’ایپِسٹین فائلز‘‘ کے حالیہ ڈی کلاسیفائیڈ ریکارڈ میں پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور قید میں موجود چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا حوالہ سامنے آیا ہے۔
ایپ اسٹین لسٹ‘‘ ایک ایسے دستاویز کو کہا جاتا ہے جس میں معروف شخصیات کے نام شامل ہیں، جن کا تعلق امریکی فنانسر اور مجرم جنسی مرتکب جیفری ایپ اسٹین سے بتایا گیا ہے۔ یہ فائل ایپ اسٹین کے مواد کے بڑے مجموعے یعنی ایپ اسٹین فائلز کا حصہ ہے۔
ان دستاویزات میں مختلف عالمی شخصیات کے نام شامل ہیں جن کا کسی نہ کسی سطح پر جیفری ایپِسٹین یا اس کے نیٹ ورک سے تعلق جوڑا گیا ہے۔
ایپِسٹین لسٹ دراصل اُن ریکارڈز کا حصہ ہے جو امریکی حکام نے کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور استحصال کے مقدمات سے متعلق جاری کیے ہیں۔ امریکی مالیاتی شخصیت جیفری ایپِسٹین کو 2019 میں نیویارک اور پام بیچ کی پراپرٹیز پر 2002 سے 2005 کے دوران کم عمر لڑکیوں کے استحصال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے کچھ عرصے بعد ایپِسٹین جیل میں مردہ پایا گیا اور اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔
فلوریڈا کی اٹارنی جنرل پَم بانڈی نے ایپِسٹین فائلز کے پہلے مرحلے کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے فلائٹ لاگز، شواہد کی فہرست اور ایک ترمیم شدہ کانٹیکٹ لسٹ جاری کی ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ لڑکیوں کے نام حفاظتی اقدامات کے تحت حذف کر دیے گئے ہیں جبکہ مزید ریکارڈ بھی آئندہ دنوں میں جاری کیا جائے گا۔

دستاویزات کے مطابق عمران خان کا ذکر بنیادی طور پر گِزلین میکسویل سے متعلق مواد میں سامنے آیا ہے۔ گِزلین میکسویل وہی خاتون ہیں جن پر ایپِسٹین کے ساتھ مل کر کم عمر لڑکیوں کی بھرتی اور رسائی میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام ہے اور جنہیں امریکی عدالت پہلے ہی طویل قید کی سزا سنا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپر کوہستان سکینڈل، عدالت نے ملزمان کا سات روزہ ریمانڈ منظور کر لیا
جاری ریکارڈ میں شامل کچھ ای میلز میں ایپِسٹین نے مبینہ طور پر مختلف شخصیات کے بارے میں اپنی رائے، ان کی کمزوریاں اور ان سے متعلق ذاتی تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ انہی ای میلز میں ایک جگہ اُس نے جمیما کو جاننے کا دعویٰ کیا اور یہ بھی لکھا کہ عمران خان نے انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا، یہ دعویٰ محض اس کی ذاتی بات چیت کا حصہ تھا جس کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک پرانا پوڈکاسٹ بھی زیرِ بحث ہے جس میں سابق کرکٹر وسیم اکرم نے بتایا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران وہ ایک نجی طیارے میں کسی جزیرے تک گئے تھے۔ اس بیان کو بھی اب کچھ حلقے ایپِسٹین آئی لینڈ سے منسلک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت تاحال سامنے نہیں آیا۔امریکی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی اس تمام ریکارڈ کی جانچ کر رہی ہے، جس میں عمران خان سے متعلق ای میل ریفرنسز بھی شامل ہیں۔
ایپِسٹین فائلز میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی شاہی خاندان کے رکن پرنس اینڈریو سمیت کئی عالمی شخصیات کے نام بھی موجود ہیں جس کے باعث ان دستاویزات نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے





