روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے ترجمان ماریا زخارووا نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان روس کے اہم شراکت دار ہیں اور خطے میں استحکام روس اور عالمی برادری کی اولین ترجیح ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے تناؤ کے بڑھنے کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
روس نے زور دیا کہ کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے اور مصالحتی کوششیں پائیدار امن اور استحکام یقینی بنا سکتی ہیں۔
روس کی یہ پیشکش ایران کی جانب سے ثالثی کے بعد سامنے آئی ہے جس کا مقصد خطے میں تناؤ کو کم کرنا اور دیرپا امن قائم کرنا ہے۔
ترکی اور ایران، پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیش کش کر چکا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا کہا کشیدگی کے خاتمے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہیں۔
خطے میں پائیدار امن کیلئے دونوں ملکوں میں مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا کہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حکان فیدان، وزیرِ دفاع یشار گولر اور انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے.
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے ساتھ ہم حالت جنگ میں ہیں، طالبان کے اقدامات کے نتائج بھگتیں گے، خواجہ آصف
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ثالثوں کی موجودگی میں جاری مذاکرات جمعے کو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے
کیونکہ فریقین سرحد پار دہشت گردی کی نگرانی اور روک تھام کے طریقہ کار پر اپنے اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے۔





