مولانا فضل الرحمان نے ستائیسویں آئینی ترمیم اور ملکی سیاسی صورتحال کے اثرات پر غور کے لیے ہنگامی مرکزی شوریٰ اجلاس طلب کر لیا
تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کا اہم اور ہنگامی اجلاس 23 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم اور حالیہ قانون سازی کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں دینی مدارس کی رجسٹریشن، حکومتی رویے اور مذہبی اداروں کے مستقبل سے متعلق پالیسی امور پر بھی غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، حکومتی اقدامات اور مختلف جماعتوں کے درمیان بدلتے سیاسی ماحول پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق شوریٰ اجلاس میں جماعت کی سیاسی حکمت عملی، آئندہ لائحہ عمل، تنظیمی صورتحال اور کارکنوں کی مشاورت کے ساتھ ساتھ تنظیمی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف جماعت کے آئندہ بیانیے بلکہ ملکی سیاست پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامی اجلاس جماعت کی موجودہ سیاسی حکمت عملی کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تیاری کے لیے اہم موقع ہے، جس میں پارٹی قیادت ملکی سیاسی حالات کے تناظر میں اپنا موقف مرتب کرے گی۔





