پہلے سکیورٹی پھر تجارت! پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی

پہلے سکیورٹی پھر تجارت! پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی

سکیورٹی پہلے، تجارت بعد میں، پاکستان کا افغان سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا بڑا اسٹریٹجک فیصلہ

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ دوطرفہ کشیدگی میں اضافے اور طالبان حکام کی جانب سے افغان تاجروں کو اس ’وارننگ‘ کے بعد کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان پر انحصار کم کرکے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت بڑھائیں۔

حکام کے مطابق سرحد بند کرنے کا فیصلہ معمول کا انتظامی اقدام نہیں بلکہ اسلام آباد کی افغانستان پالیسی میں ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی ہے۔ پاکستان نے کابل کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ جب تک افغان طالبان کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف موثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیاں نہیں کرتے، اس وقت تک تجارت، ٹرانزٹ اور دیگر سرگرمیوں کے لیے سرحدیں نہیں کھولی جائیں گی۔

ایک سینئر سرکاری افسر کے مطابق’’پاکستان اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں۔ اب ہمارا اصولی مؤقف ہے،سکیورٹی پہلے، تجارت بعد میں‘

رپورٹس کے مطابق پاک افغان سرحد بند ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جس کے باعث دونوں جانب ہزاروں ٹرک اور کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں۔ اس وقت سرحدی گزرگاہیں صرف انسانی بنیادوں پر کھلی ہیں، جن کا مقصد صرف افغان مہاجرین کی واپسی اور سرحد پر پھنسے افراد کو اپنے ملک پہنچانا ہے۔

ایک اعلیٰ حکومتی افسر نے کہا کہ پاکستان کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق’’ہمارے لیے تجارت اور معیشت سے زیادہ اہم اپنے لوگوں کی زندگی ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘‘

حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے کابل کو دوٹوک پیغام دے دیا ہے کہ جب تک پاکستان کے خدشات دور نہیں کیے جاتے، سرحد کھولنے سمیت کسی بھی نئے مذاکرات پر بات نہیں کی جائے گی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے، بارڈر مینجمنٹ اور سیکورٹی تعاون پر پیش رفت کے بغیر عملی تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

Scroll to Top