خیبرپختونخوا میں ڈینگی کا ایک اور مریض چل بسا،تعداد 4ہوگئی

پشاور( سلمان یوسفزئی) خیبر پختونخوا میں ڈینگی سے متاثرہ ایک اور مریض جاں بحق ہوگیا جس کے بعد صوبے میں اس وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد چار ہوگئی ہے۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والا شخص لکی مروت کا رہائشی تھا۔

محکمہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس وقت صوبے میں 272 فعال کیسز موجود ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 18 نئے لیبارٹری کنفرم کیسز سامنے آئے جبکہ 7 مزید مریض ہسپتالوں میں داخل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں سیزن کے دوران اب تک ڈینگی کے 5978 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

مجموعی طور پر 2063 مریض مختلف اسپتالوں میں داخل ہوئے جبکہ 5702 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔ اس وقت صوبے کے مختلف اسپتالوں میں 12 مریض زیر علاج ہیں۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ شہری ڈینگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گھروں، گلیوں اور کھلی جگہوں پر پانی جمع نہ ہونے دیں اور مچھروں سے بچاؤ کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں : ڈینگی بخار کی علامات اور فوری احتیاطی تدابیر

ڈینگی بخار ایک خطرناک وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی بیماری ہے جو متاثرہ مچھر کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ڈینگی کی ابتدائی شناخت اور فوری اقدامات مریض کی جان بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ڈینگی کی عام علامات میں اچانک تیز بخار، سر درد خاص طور پر آنکھوں کے پیچھے، جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، متلی، جلد پر خارش یا داغ، اور شدید تھکن شامل ہیں۔

خطرناک علامات میں پیٹ میں شدید درد، مسلسل الٹی، خون بہنا یا مسام سے خون نکلنا، اور سانس لینے میں مشکل شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی میں فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔ پانی اور دیگر مائعات کا زیادہ استعمال جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مددگار ہے۔

درد اور بخار کے لیے صرف پیراسٹامول استعمال کریں اور اسپرین یا آئبُوپروفین سے گریز کریں کیونکہ یہ خون بہنے کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

مزید براں مریض کو ماچھر سے محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ وائرس دوسروں تک نہ پھیلے۔ گھریلو احتیاطی تدابیر جیسے کھڑے پانی کو صاف کرنا، ماچھر دانی کا استعمال اور حفاظتی اقدامات اپنانا انتہائی ضروری ہیں۔

واضح رہے کہ ڈینگی کا کوئی مخصوص اینٹی وائرل علاج موجود نہیں، اس لیے ابتدائی علامات کی شناخت، فوری طبی نگہداشت اور احتیاطی تدابیر ہی سب سے مؤثر طریقہ ہیں۔

Scroll to Top