1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت نے خطے میں دہشتگردی پھیلانے اور دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی میں اپنی روایتی سازشوں کی انتہا کر دی۔
اس دوران بھارتی سرپرستی میں مکتی باہنی جیسے خونخوار گروہوں نے محب وطن پاکستانیوں، خصوصاً بہاری کمیونٹی پر نہایت ظالمانہ مظالم ڈھائے جو تاریخ کا ایک سیاہ باب بن گیا۔
بہاری کمیونٹی کے بہادر افراد میں محمد علاؤالدین بھی شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
اپنے یادگار تجربات بیان کرتے ہوئے محمد علاؤالدین نے کہا کہ مکتی باہنی کے دہشتگردوں نے پورے ملک میں آگ اور خون کا دریا بہایا۔
چٹاگانگ میں صورتحال اس قدر ہولناک تھی کہ ہم نے خود 45 ڈرمز میں سربریدہ لاشیں اکٹھی کیں اور بے شمار لاشیں سڑکوں پر پڑی تھیں جنہیں ہم نے اپنے ہاتھوں دفن کیا۔
محمد علاؤالدین نے مزید بتایا کہ جب پاکستانی فوج مدد کے لیے پہنچی تو مکتی باہنی کے غنڈوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔
جنرل ٹِکا خان نے انہیں فوج میں بھرتی کیا اور مختصر تربیت کے بعد محب وطن بہاریوں نے دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
علاؤالدین نے کہا کہ اندرونی صورتحال تباہ کن تھی اور مکتی باہنی، شانتی باہنی اور لال باہنی کی فوج نے دہشت کا پورا جال بچھا رکھا تھا جبکہ بھارت مسلسل حملہ آور تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہار نہیں مانی اور سوچا کہ اگر مرنا ہی ہے تو اپنے ملک کے لیے جان دینا بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان و فتنہ الخوارج کے چہرے عالمی سطح پر بے نقاب
محمد علاؤالدین نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں، آج بھی چھ لاکھ سے زائد افراد وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور پاکستان کا جھنڈا بلند کیے بیٹھے ہیں۔
یہ واقعات بھارت اور مکتی باہنی کے خونریز جرائم کو بے نقاب کرتے ہیں اور 1971 کے ظلم و بربریت کی داستانیں آج بھی زندہ ہیں جو بہاری کمیونٹی کی قربانی اور وطن سے محبت کی عکاسی کرتی ہیں۔





