افغانستان سے آنیوالے ہر کنٹینر کی 100 فیصد اسکیننگ لازمی، این آئی آئی سسٹم کے ذریعے ملکی سپلائی چین میں شفافیت اور سکیورٹی کو یقینی بنایا جائیگا
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت پاکستان میں آنے والے تمام کنٹینرز کی جانچ پڑتال کے لیے ایک نیا نان انٹروزیو انسپیکشن (این آئی آئی) سسٹم نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت ہر کنٹینر کی اسکیننگ لازمی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد ملکی سپلائی چین کی حفاظت، تجارتی شفافیت اور محصولات کی بہتر وصولی کو یقینی بنانا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے کسٹمز فیلڈ فارمیشنز کو جاری کردہ ہدایت نامے کے مطابق، ابتدائی طور پر کل درآمدی اور برآمدی کنٹینرز کا 30 فیصد حصہ این آئی آئی اسکیننگ کے ذریعے جانچا جائے گا، تاہم افغان ٹرانزٹ کے تمام کنٹینرز کی اسکیننگ 100 فیصد لازمی ہوگی۔
نان انٹروزیو انسپیکشن کے تحت کنٹینرز کی سالمیت کو نقصان پہنچائے بغیر ایکس رے یا گاما رے ٹیکنالوجی کے ذریعے سامان کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض گرین چینل کی ترسیلات کو بھی اسکین کیا جائے گا تاکہ نقل و حمل کے دوران محتاط رویہ برقرار رکھا جا سکے۔ یہ نیا نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا اور نان کنٹینرائزڈ یا لوز کارگو پر بھی اسی طریقہ کار کو لاگو کیا جائے گا۔
ایف بی آر کے مطابق، اسکیننگ تصاویر کو کسٹمز رسک مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) اور سینٹرلائزڈ آڈٹ سسٹمز میں شامل کیا جائے گا، جو عالمی معیار WCO SAFE فریم ورک کے مطابق ہوں گے۔ اسکین شدہ تصاویر کو ترجیحاً مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بنیاد پر الگورتھم کے ذریعے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر میچ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا ممنوعہ اشیاء کی شناخت کی جا سکے۔
ایف بی آر کا یہ فیصلہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں شفافیت اور حفاظتی انتظامات کو بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی سپلائی چین محفوظ اور مؤثر طور پر کام کر سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف ملکی تجارتی راستوں کی حفاظت میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹرانزٹ کے دوران کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام بھی ممکن ہوگی۔





