محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں جعلی بھرتیوں کا بھانڈا پھوٹ گیا

محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں مبینہ جعلی بھرتیوں کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

سروس ٹریبونل پشاور میں جمع کرائے گئے سرکاری جواب میں محکمہ صحت، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بنوں نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے تقرری آرڈر، جوائننگ رپورٹ، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور دیگر دستاویزات کو جعلی اور بوگس قرار دے دیا ہے۔

درخواست گزار نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے محکمہ صحت بنوں میں باقاعدہ تقرری دی گئی تھی تاہم ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی، سابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بنوں نے مبینہ تقرری آرڈر پر موجود دستخطوں کو بھی جعلی قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عاشورہ جلوسوں کے لیے محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا اہم ہدایت نامہ جاری

محکمہ صحت کے مطابق درخواست گزار کی جوائننگ رپورٹ اور میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں جس سے پیش کی گئی دستاویزات کی صداقت مشکوک ہو جاتی ہے۔

سرکاری مؤقف میں کہا گیا ہے کہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو تنخواہ، سروس فوائد یا دیگر مراعات کا حق حاصل نہیں ہو سکتا لہٰذا سروس اپیل کو اخراجات سمیت مسترد کیا جائے۔

دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز نے ضلع کرم کے سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر کلیم اللہ داوڑ کے خلاف محکمانہ کارروائی کے سلسلے میں قائم انکوائری کمیٹی کی معاونت کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر پروموشن سیل ڈاکٹر سردار محمد بلال خان کو محکمانہ نمائندہ مقرر کر دیا ہے۔

Scroll to Top