گورنر خیبر پختونخوا کا ایف سی ہیڈکوارٹرز حملے کا نوٹس، تفصیلات طلب ،دہشتگردی کی مذمت، فورسز کی بہادری کو سلام
تفصیلات کے مطابق پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مکمل تفصیلات اور جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔ گورنر نے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اپنی پولیس، ایف سی اور سیکیورٹی فورسز پر فخر کرتے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر فورسز کی قربانیوں کی بدولت وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر تین خودکش حملہ آوروں نے حملے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور بہادرانہ کارروائی نے دہشتگردوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
ڈپٹی کمانڈنٹ ایف سی جاوید اقبال کے مطابق:
ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر دھماکے سے اڑا لیا
دو حملہ آور ہیڈکوارٹر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے
ایف سی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں دہشتگردوں کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کردیا
واقعے میں ایف سی کے 3 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 5 افراد زخمی ہوئے جن میں 2 ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ اگر فورسز بروقت کارروائی نہ کرتیں تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاروں نے نہایت جرأت اور پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کو ان کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ حملے کے تمام محرکات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف لڑنے والے اپنے سپاہیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور امن کی بحالی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔گورنر نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہارتعزیت کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو’’قوم کا فخر‘‘ قرار دیا۔





