دھاندلی کے الزامات لگانے سے پہلے عملی حصہ لیں، بائیکاٹ سب سے بڑی غلطی ہے، عطا تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ دھاندلی کے الزامات لگانے والے افراد کو پہلے میدان میں عملی حصہ لینا چاہیے، کسی عمل میں شریک نہ ہو کر دھاندلی کا الزام لگانا غلط ہے، اور سیاست میں سب سے بڑی غلطی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور معرکہ حق میں ڈیجیٹل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ دشمن کو اس کی اپنی زبان میں جواب دینا ضروری ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ہے اور ہر موقع پر بھرپور ساتھ دیا، جبکہ جماعت اسلامی نے پُرامن احتجاج اور بڑے جلسے کیے جن میں ایک بھی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مذموم مہم پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سیاست میں بات چیت اور مکالمے سے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مثبت رویے سے مسائل کا حل ممکن ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے، تاکہ فیک نیوز کی روک تھام میں اہم کردار ادا کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن نے اسد قیصر کے دھاندلی الزامات کا نوٹس لے لیا

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کے الزامات کا نوٹس لے لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے پیمرا سے اسد قیصر کے بیان کا ٹرانسکرپٹ منگوا لیا ہے اور ٹرانسکرپٹ کا جائزہ لینے کے بعد قانونی کارروائی کا فیصلہ کرے گا۔

واضح رہے کہ اسد قیصر نے ضمنی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ افسوسناک ہے کہ کمیشن کا عملہ سرکاری ویب سائٹ پر غلط نتائج اپ لوڈ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر الیکشن کمیشن کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا اور اگر یہی معیار ہے تو بہتر تھا کہ انتخاب کے بجائے براہ راست نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا۔

ذرائع کے مطابق بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف پہلے ہی الیکشن کمیشن میں توہین چیف کمیشن کا کیس زیر التوا ہے، جس کے پیش نظر اسد قیصر کے بیان پر کارروائی کی نوعیت پر بھی توجہ دی جائے گی۔

Scroll to Top