جرمنی نے پاکستانی ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقع میں اہم اضافہ کرتے ہوئے چانسن کارٹے (Chancenkarte Opportunity Card) کا اجرا کر دیا ہے، جس کے تحت پاکستانی شہری اب بغیر کسی پیشگی ملازمت کے جرمنی جا کر ایک سال تک روزگار تلاش کر سکیں گے۔
اس پروگرام کا مقصد مختلف ممالک خصوصاً پاکستان سے ماہر افرادی قوت کو جرمنی کی لیبر مارکیٹ میں شامل کرنا ہے۔
نئے قانون کے تحت امیدوار نہ صرف ایک سال تک جرمنی میں قیام کرسکیں گے بلکہ ہفتے میں 20 گھنٹے تک پارٹ ٹائم کام کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔
اس کے علاوہ منتخب امیدواروں کو دو ہفتوں کا جاب ٹرائل بھی دیا جائے گا، جہاں وہ اپنی صلاحیتیں براہِ راست آجر کے سامنے پیش کر سکیں گے۔
پوائنٹس سسٹم کا طریقہ کار
اوپرچونیٹی کارڈ حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو کم از کم 6 پوائنٹس اسکور کرنا ضروری ہے۔ یہ پوائنٹس درج ذیل عوامل پر ملتے ہیں:
زبان کی مہارت
تعلیمی قابلیت
پیشہ ورانہ تجربہ
ٹیکنیکل اسکلز
عمر
جرمنی میں سابقہ قیام
درخواست دہندگان کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ کم از کم 1091 یورو ماہانہ فنڈز کا ثبوت پیش کریں، تاکہ جرمنی میں قیام کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
درکار دستاویزات کیا ہوں گی؟
اہم کاغذات میں شامل ہیں:
زبان کے سرٹیفکیٹس
تعلیمی اسناد
ملازمت کا تجربہ
بینک اسٹیٹمنٹس
پاسپورٹ یا شناختی دستاویزات
تمام درخواستیں جرمنی کے فیڈرل فارن آفس کے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان مفاد پرست گروہ ہے، ان پر اعتماد کرنا بے فائدہ ہے، خواجہ آصف
منظوری کے بعد اوپرچونیٹی کارڈ جاری کیا جائے گا، جس کے بعد امیدوار جرمنی پہنچ کر رہائش، ہیلتھ انشورنس اور مقامی اندراج جیسے رسمی مراحل مکمل کرتے ہوئے نوکری کی تلاش شروع کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق جرمن زبان کے جاننے والوں کے لیے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں، جبکہ مزید رہنمائی کے لیے پاکستان میں جرمن سفارت خانہ اور قونصلیٹ مدد فراہم کریں گے۔





