ملک بھر میں بے روزگاری میں بڑا اضافہ، سینکڑوں افراد بے روزگار: لیبر فورس سروے

اسلام آباد: پاکستان میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ پانچ سالوں میں بڑھ کر 7.1 فیصد ہو گئی ہے، جب کہ سال 2020-21 میں یہ شرح 6.3 فیصد تھی۔

قومی لیبر فورس سروے 2024 کے مطابق اس وقت تقریباً 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔

مردم شماری 2023 کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے، جس میں ورکنگ ایج پاپولیشن کی شرح 43 فیصد اور غیر فعال آبادی 53.8 فیصد ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان کی 3.3 فیصد آبادی بے روزگار ہے۔

روزگار کے شعبوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سروسز سیکٹر روزگار کی فراہمی میں سب سے آگے ہے، اس شعبے میں 3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد برسر روزگار ہیں اور ایمپلائمنٹ کی شرح 41.7 فیصد ہے۔

زرعی شعبہ دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 2 کروڑ 55 لاکھ 30 ہزار افراد کام کر رہے ہیں اور روزگار کی شرح 33.1 فیصد ہے۔

صنعتی شعبہ تیسرے نمبر پر ہے، جس میں 1 کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار افراد برسر روزگار ہیں اور روزگار کی شرح 25.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بالوں کی جڑیں مضبوط رکھنا چاہتے ہیں؟ یہ کھانے چھوڑیں

لیبر سروے کے مطابق ملک میں فی کس ماہانہ اوسط اجرت 39,042 روپے ہے، جو گزشتہ پانچ سال میں 24,028 روپے سے بڑھ کر 39,042 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

مرد حضرات کی اوسط ماہانہ اجرت 39,302 روپے جبکہ خواتین کی 37,347 روپے ہے۔

یہ سروے ملکی روزگار کی صورتحال اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کی مالی حالت کے حوالے سے اہم ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔

Scroll to Top