پانی کا کم استعمال خطرناک،طبی ماہرین نے وجوہات بتادی

موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی معمولاتِ زندگی میں تبدیلی آتی ہے اور لوگ پانی کا استعمال کم کر دیتے ہیں تاہم طبی ماہرین کے مطابق یہ عادت صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سرد موسم میں پیاس کم محسوس ہوتی ہے لیکن جسم کی پانی کی ضرورت کم نہیں ہوتی۔ پانی کم پینے سے ڈی ہائیڈریشن، تھکاوٹ، سر درد، قبض اور چکر آنے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں، جبکہ قوتِ مدافعت کم ہونے کے باعث نزلہ، زکام اور دیگر موسمی بیماریاں بھی آسانی سے لاحق ہو جاتی ہیں۔ گردوں پر اضافی دباؤ اور جلد کا خشک ہونا بھی اسی کمی کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پولیس نے فرخ کھوکھر کو گرفتار کرلیا

فیملی فزیشن ڈاکٹر عظمیٰ حمید کے مطابق انسانی جسم کا تقریباً 80 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سردیوں میں پیاس کے سگنلز کمزور ہوجاتے ہیں، اسی لیے لوگ اپنے جسم کی ضرورت کو محسوس نہیں کر پاتے۔ انہوں نے بتایا کہ موسمِ سرما میں خون کی نالیوں میں سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے، جس سے دل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نے مزید کہا کہ ہونٹوں کا پھٹنا، پیشاب کا گاڑھا ہونا، جلد کا خشک پڑ جانا اور وزن میں اضافہ بھی پانی کی کمی کی نشانیاں ہیں۔ ان کے مطابق سر اور پٹھوں میں درد کو لوگ موسم کا اثر سمجھتے ہیں، حالانکہ اکثر اوقات یہ ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : والدین اور سکول طلبہ کیلئے خوشخبری،محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی نئی ہدایات جاری

پانی کا کوئی متبادل نہیں، تاہم ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق موسمی پھل جیسے مالٹا، انگور، انار اور کینو جسم میں پانی کی کمی کو کافی حد تک پورا کرسکتے ہیں۔ سبزیوں میں گاجر، ٹماٹر، شملہ مرچ اور کھیرا بھی ہائیڈریشن میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یخنی اور سوپ کا استعمال سردیوں میں بہترین ثابت ہوتا ہے۔

Scroll to Top