پشاور ہائی کورٹ نےپاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر خرم ذیشان کی ضمانت میں18 دسمبر تک توسیع کردی ۔
سماعت جسٹس ارشد علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، جس میں سینیٹر خرم ذیشان کی جانب سے دائر درخواست پر غور کیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سینیٹر ذیشان اسلام آباد میں سینٹ اجلاس میں شرکت کے لیے مصروف ہیں، لیکن ان کے گرفتار ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ! سرکاری و تعلیمی اداروں کے احاطے میں سیاسی اجتماعات پر پابندی عائد
عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے رپورٹ طلب کی اور ضمانت میں توسیع کے ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ مذکورہ تاریخ تک سینیٹر خرم ذیشان کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم ذیشان 30 اکتوبر کو سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔
اسمبلی کے کل 137 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے۔ پی ٹی آئی کے خرم ذیشان نے 91 ووٹ جبکہ اپوزیشن کے امیدوار تاج آفریدی نے 45 ووٹ حاصل کیے۔ ایک ووٹ مسترد قرار پایا۔





