راولپنڈی: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنا دیا، تاہم محدود شرکت اور عوامی ردِعمل نہ ہونے کے باعث یہ دھرنا مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر وزیر اعلیٰ اور ان کے چند کارکن بیٹھ گئے، مگر دھرنے میں صرف 15 سے 20 افراد شریک تھے۔
پولیس نے وزیراعلیٰ کو جیل کے اندر جانے سے روک دیا، جس پر سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک بانی تحریکِ انصاف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی ہم بیٹھے رہیں گے۔
جیل انتظامیہ نے اپنا نمائندہ وزیر اعلیٰ کے پاس مذاکرات کے لیے بھیجا اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عمران ریاض نے عدالت کے حکم نامے کی بنیاد پر ملاقات کی یقین دہانی کروائی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر جیل سپرنٹنڈنٹ تحریری طور پر تصدیق کریں کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بالکل ٹھیک ہیں، تو دھرنا ختم کر دیا جائے گا، جس کے بعد جیل انتظامیہ واپس روانہ ہو گئی۔
دھرنے کے دوران سہیل آفریدی اور دیگر رہنماوں نے روڈ پر نماز مغرب ادا کی، جس کی وجہ سے اڈیالہ روڈ پر ٹریفک متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، کسی قسم کا خدشہ نہیں ہے، رانا ثناء اللہ
اس موقع پر صوبائی وزیر مینا خان، شاہد خٹک، اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان بھی موجود تھے۔
مختلف میڈیا رپورٹ کے مطابق محدود شرکاء اور کم عوامی حمایت کے باعث یہ دھرنا ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج صرف نمائشی نوعیت کا تھا اور پارٹی کی عملی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر گیا ہے۔





