راولپنڈی: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنا دے دیا، تاہم دھرنے میں شرکاء کی تعداد انتہائی کم رہی اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی غیر حاضر رہی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھرنے میں صرف 7 افراد فعال طور پر شریک تھے اور شدید سردی کے باعث دھرنے کی صورتحال مزید محدود رہی۔ صحافی سمیع ابراہیم بھی موقع پر موجود تھے لیکن زیادہ کارروائی نہیں دیکھنے کو ملی۔
اس موقع پر محمود خان اچکزئی موجود تھے، لیکن پی ٹی آئی کے چیئرمین، سیکرٹری جنرل، خیبرپختونخوا، پنجاب اور پنڈی کے صدر سمیت پارٹی کے دیگر اعلیٰ رہنما شریک نہیں ہوئے۔ اس سے پارٹی کی قیادت کے دھرنے کے پیچھے غیرحاضری پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے دھرنے کے دوران کہا کہ حکومت عوامی نمائندوں اور قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز کر رہی ہے، اور یہ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مظالم کے خلاف آواز بلند کرے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا 15 افراد کے ساتھ سڑک پر دھرنا
سماجی حلقوں اور پارٹی حمایتی یوٹیوبرز نے دھرنے کی محدود شرکت اور پارٹی قیادت کی غیرحاضری پر شدید تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ سہیل آفریدی کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔
دھرنے کی یہ صورتحال اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ پارٹی کی عملی حمایت اور عوامی ردِعمل دونوں محدود ہیں، اور احتجاج صرف نمائشی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔





