اپر کوہستان مالیاتی سکینڈل میں گرفتار نجی بینک ملازم مزید ریمانڈ پر نیب کے حوالے

پشاور میں احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپر کوہستان سے تعلق رکھنے والے نجی بینک کے ملازم خالد احمد کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔

تفتیشی افسران کے مطابق ملزم خالد احمد داسو برانچ میں نجی بینک کا ملازم ہے اور اس نے ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے نام پر اکاؤنٹ کھولا تھا، جس میں تقریباً 55 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی۔

تفتیشی افسران نے بتایا کہ ملزم کو کئی بار تفتیش کے لیے طلب کیا گیا لیکن وہ قصداً شامل نہیں ہوا۔

نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر حوالہ کیا جائے جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزم کو سات دن کے لیے نیب کے حوالے کر دیا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم سے مزید سوالات کیے جائیں گے اور اس کے مالیاتی لین دین کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جائے گی۔

یہ گرفتاری اپر کوہستان میں 2025 میں سامنے آنے والے میگا کرپشن سکینڈل سے متعلق ہے جس میں حکومت کے ترقیاتی اور ٹھیکیداری فنڈز غیر قانونی طریقے سے نکالے گئے۔

تفتیشی افسران کے مطابق ملزم نے ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے نام پر اکاؤنٹ کھولا اور اس میں 55 ملین روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی۔

نیب کے مطابق یہ سکینڈل 2024 کے دوران سامنے آیا جس میں ٹھیکیدار، بینک ملازمین اور سرکاری افسران جعلی بلز اور غیر موجود کاموں کے نام پر فنڈز نکالتے رہے۔

اپر کوہستان سکینڈل کے انکشاف کے بعد کئی مشکوک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے اور اثاثے ضبط کیے گئے ہیں، متعدد گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: اپر کوہستان سکینڈل، عدالت نے ملزمان کا سات روزہ ریمانڈ منظور کر لیا

یہ سکینڈل صوبہ خیبرپختونخوا کے لیے اب تک کے سب سے بڑے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں شمار ہوتا ہے جس کی رقم40 ارب روپے تک بتائی گئی ہے۔

سکینڈل کی وسیع پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ کتنی رقم کس طرح نجی اکاؤنٹس اور کمپنیوں کے ذریعے منتقل ہوئی۔

Scroll to Top