ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش دھماکے کے تینوں حملہ آور افغان شہری نکلے،تصدیق ہوگئی

ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش دھماکے کے تینوں حملہ آور افغان شہری نکلے،تصدیق ہوگئی

پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ، تینوں حملہ آور افغان شہری نکلے، تفتیش میں اہم شواہد اور سرحدی سکیورٹی کے سوالات پیدا

تفصیلات کے مطابق پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش دھماکوں کی تفتیش جاری ہے، جس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں ملوث تینوں حملہ آور افغان شہری تھے، تاہم ان کی مزید تفصیلات اب تک موصول نہیں ہو سکیں۔

حکام نے بتایا کہ دھماکے کے بعد اب تک 100 سے زائد مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے۔ حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے ایف سی ہیڈکوارٹر تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے، جس سے حملہ آوروں کی نقل و حرکت کے اہم شواہد ملے ہیں۔

تفتیشی ٹیم اب سہولت کار کی تلاش میں ہے، اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملے کے دن حملہ آوروں نے کوئی موبائل فون استعمال نہیں کیا، جس سے حملے کی منصوبہ بندی میں خفیہ رابطوں کی ممکنہ نشاندہی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ خودکش دھماکہ 24 نومبر کو ایف سی ہیڈ کوارٹر میں ہوا تھا، جس میں تین ایف سی اہلکار شہید جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے اور علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا تھا۔

تفتیشی حکام نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کے اس حملے سے سرحدی سکیورٹی اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے اہم سوالات پیدا ہو گئے ہیں، اور تحقیقات جاری رہیں گی تاکہ حملے کے پیچھے موجود نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔

Scroll to Top