وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی میڈیا کی جانب سے شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بے بنیاد، گمراہ کن اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کی جانے والی من گھڑت مہم قرار دیا ہے۔
انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ، جس کا عنوان “Asim Munir yearns for India war, Imran Khan wants to befriend BJP: Ex-PM’s sister” ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے حصول کے لیے بے چین عناصر بھارتی میڈیا کے پلیٹ فارم کو استعمال کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے لکھا کہ محض چھ ماہ قبل پاکستان کی عسکری قیادت نے بھارتی فضائی جارحیت کا بھرپور جواب دیا تھا، اور اللہ کے فضل سے بھارت کو واضح طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سات بھارتی طیاروں‘‘ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 61 مرتبہ بھارتی طیاروں کا ذکر کرکے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ’’آتما‘‘رول دی ہے۔
خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ پاکستان اور اس کی سرزمین سے محبت ہر شہری کے لیے باعث فخر ہے۔ اگر پاکستان سے وفاداری اور دین کی سربلندی کے لیے کھڑے رہنے کو ’’ریڈیکل اسلامسٹ‘‘ یا ’’اسلامی کنزرویٹو‘‘ کہا جاتا ہے، تو یہ فخر کا لیبل 25 کروڑ پاکستانیوں کے ماتھے پر سجتا ہے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم کی ہمشیرہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب اقتدار کا حصول ممکن نہ رہا تو ’’سلائی مشین‘‘ رک گئی اور اب بھارتی میڈیا کے ذریعے دکھ اور شکایات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع نے تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ سیاسی جنگ پاکستان میں لڑی جائے، دشمن ملک کے میڈیا میں بیٹھ کر وطن دشمنی نہ کی جائے، اور سیاسی رہنماؤں کو اس معاملے میں ظرف کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر بھارت نے دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی غلطی کی تو ’’انشااللہ بھارت کے ساتھ وہ عناصر بھی منظر سے غائب ہوں گے‘‘ جو بھارتی مؤقف کا ساتھ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نواز بیانیے اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ناقابلِ قبول ہے، اور حکومت ملک کے مفادات کے خلاف ہر منفی کوشش کا ٹھوس جواب دے گی۔





