اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے اب کسی بھی مذاکرات کے امکانات موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ ٹوئٹ کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے لگتا ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں اور پارٹی نے معاملے کو مزید خراب کرنے کی سمت اختیار کی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ایوان میں مذاکرات کی پیشکش کی تھی، اور یہ پیشکش آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نہ تو اس پیشکش کو واپس لے سکتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے ایسا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں، اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش اب بھی دستیاب ہے۔ تاہم حالیہ رویے کے بعد پارٹی کے ساتھ مذاکرات کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے بات چیت کا موقع گنوا دیا ہے اور اب کسی انتشاری، دہشت گرد یا انتہا پسند سوچ رکھنے والے کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
جبکہ تجزیہ کاروںکے مطابق یہ بیانات پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی سنگینی اور پی ٹی آئی کے رویے پر حکومت کی سخت موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ آئندہ سیاسی اقدامات پر اس کا واضح اثر پڑنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی بہن کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا، خواجہ آصف
جبکہ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن کا بھارتی میڈیا کو دیا گیا انٹرویو ان کے سیاسی کیریئر میں ایک آخری کیل ثابت ہوا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان ہمیشہ دیگر سیاستدانوں سے مذاکرات کرنے سے انکار کرتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت پر اصرار کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان اور فوج کے خلاف بیانات کی کبھی بھی تحریک انصاف نے مذمت نہیں کی، پارٹی کے لوگ شہدا کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوتے، جبکہ طالبان کو بھتہ دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ تین بار اقتدار سے ہٹائے گئے لیکن پاکستان کو چیلنج نہیں کیا، جبکہ پی ٹی آئی کے برعکس ہم اور پیپلز پارٹی نے 9 مئی کے واقعات نہیں کیے۔
ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جو ردعمل دیا گیا وہ فطری ہے کیونکہ چند سالوں سے فوج کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے۔





