جنرل ( ر ) فیض حمید کو سزا، خیبر پختونخوا حکومت کا ردعمل سامنے آگیا

اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا کورٹ مارشل ادارے کا اندرونی معاملہ ہے اور ہر ادارے میں سزا و جزا کا نظام ضروری ہوتا ہے۔

اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا گورننس کے ساتھ ساتھ پارٹی بیانیہ کو بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی مذاکرات کی بات تو کر رہے ہیں لیکن محمود اچکزئی بطور اپوزیشن لیڈر کوئی اعلامیہ جاری نہیں کر رہے۔

شفیع جان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف بنائے گئے مقدمات بے بنیاد اور جعلی ہیں اور ہری پور ضمنی الیکشن کے دستخط شدہ فارم 45 بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملزم کے خلاف 4 الزامات پر کارروائی کی گئی، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، ریاست کی سلامتی اور مفادات کے لیے نقصان دہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور بعض افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایمل ولی خان کا فیض حمید کی سزا پر ردعمل

 جبکہ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے جنرل فیض حمید کو سنائی گئی سزا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل فیض کو ان کے جرائم کی حقیقی سزا نہیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ چائے کا کپ پکڑ کر کابل میں چالیس ہزار دہشتگردوں کو منظم کرنے والا آج بھی بے حساب ہے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں کی دوبارہ نسل کشی کی کوشش پر بھی فیض سے کوئی بازپرس نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق فیض۔ باجوہ۔ عمران گٹھ جوڑ کے تمام “فیضیاب” آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پوری ایک نسل کو اپنے ہی سیاسی مشران کا دشمن بنایا گیا اور قوم کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کے سارے مشران چور ہیں جبکہ صرف ایک شخص کو مسیحا کے طور پر پیش کیا گیا۔

Scroll to Top