کے پی میں سرکاری وسائل کا غلط استعمال؟ متعدد سابق وزرا اور معاونین نے سرکاری گاڑیاں تاحال واپس نہ کیں

کے پی میں سرکاری وسائل کا غلط استعمال؟ متعدد سابق وزرا اور معاونین نے سرکاری گاڑیاں تاحال واپس نہ کیں

خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات، متعدد سابق وزرا اور معاونین کی جانب سے سرکاری گاڑیاں اور دفاتر تاحال واپس نہ کیے جا سکے

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے کئی سابق وزرا اور معاونین نے سرکاری گاڑیاں تاحال واپس نہیں کیں، معاملہ التوا کا شکارخیبرپختونخوا میں سابق صوبائی وزرا اور معاونین خصوصی کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی کا معاملہ تاحال حل نہ ہو سکا، جس پر انتظامی اور عوامی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبے کے کئی سابق وزرا اور معاونین اب بھی مختلف سرکاری گاڑیاں اپنے زیرِ استعمال رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کی سرکاری حیثیت ختم ہو چکی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ریسکیو 1122 کی تین سرکاری گاڑیاں تاحال سابق معاون خصوصی برائے ریلیف نیک محمد کے استعمال میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں کی واپسی کے لیے متعلقہ ادارے کی جانب سے باقاعدہ تحریری درخواست بھی دی جا چکی ہے، تاہم تاحال گاڑیاں واپس نہیں کی جا سکیں۔

مزید برآں ذرائع نے بتایا ہے کہ ریسکیو 1122 کی ایک سرکاری گاڑی اب بھی اسلام آباد پولیس کی تحویل میں موجود ہے، جس کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ معاملے کی پیچیدگی کے باعث متعلقہ اداروں کو انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق صرف گاڑیاں ہی نہیں بلکہ کئی سابق کابینہ اراکین نے اپنے زیرِ استعمال سرکاری دفاتر کو بھی تاحال تالے لگا رکھے ہیں، جس سے سرکاری امور اور ریکارڈ تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جس کے باعث شفافیت سے متعلق مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہوتے ہیں اور سابق عہدیداروں کی جانب سے ان کا استعمال یا واپسی میں تاخیر شفاف طرزِ حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔ عوام اور مختلف حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری کارروائی کر کے سرکاری گاڑیوں اور دفاتر کو واپس لیا جائے۔

Scroll to Top