نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے شہریوں کو واٹس ایپ ہیکنگ اور فون کالز کے ذریعے ہونے والے فراڈ سے محفوظ رہنے کے لیے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جعلی کالز اور پیغامات کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دینے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق اگر کسی شخص کو خود کو بینک منیجر یا سرکاری افسر ظاہر کرنے والی کال موصول ہو تو گھبرانے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کی جائے، کیونکہ کوئی بھی بینک، نادرا یا ایف آئی اے واٹس ایپ کال کے ذریعے رابطہ نہیں کرتا۔ حکام نے واضح کیا کہ او ٹی پی طلب کرنا یا شہریوں کو ڈرانا دھمکانا فراڈ کی واضح علامت ہے۔
ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ایسی صورت میں فوری طور پر فون بند کر دیں اور اپنا پاس ورڈ یا پن کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق مشکوک کالز یا پیغامات کی اطلاع پی ٹی اے کو 9000 پر ایس ایم ایس کے ذریعے یا ایف آئی اے کو 1991 پر کال کر کے دی جا سکتی ہے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔





