پشاور کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں نومولودوں کے علاج پر سوالیہ نشان

سلمان یوسفزئی

پشاور: خیبرپختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی چلڈرن ایمرجنسی میں نومولود بچوں کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنے کے تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایمرجنسی میں گنجائش نہ ہونے کا بہانہ بنا کر پرچیوں پر ’’نو اسپیس‘‘ لکھ کر دور دراز علاقوں سے لائے گئے نومولود مریضوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چلڈرن ایمرجنسی میں سینیئر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث علاج معالجے کی ذمہ داری زیادہ تر جونیئر ڈاکٹروں پر ڈال دی گئی ہے، جبکہ بعض سینیئر ڈاکٹرز مبینہ طور پر واٹس ایپ کے ذریعے ہدایات دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ایمرجنسی سروسز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

شبقدر کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک غریب مزدور کے 35 روزہ نومولود بچے حریت کو رات دو بجے سانس لینے میں شدید دشواری کے باعث ایمرجنسی لایا گیا، تاہم اہل خانہ کا الزام ہے کہ شدید سردی کے باوجود بچے کو نہ نیبولائزر فراہم کیا گیا اور نہ ہی آکسیجن دی گئی۔

لواحقین کے مطابق ایمرجنسی میں موجود جونیئر ڈاکٹر اور بیڈ منیجر نے سرکاری علاج فراہم کرنے کے بجائے بچے کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

لواحقین نے بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار اور بار بار درخواستوں کے باوجود جب علاج شروع نہ کیا گیا تو ایک قریبی رشتہ دار نے احتجاج کیا، جس پر ہسپتال انتظامیہ اور سیکیورٹی نے مداخلت کی اور بعد ازاں بچے کو علاج کے لیے تحویل میں لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

عینی شاہدین کے مطابق یہ کوئی واحد واقعہ نہیں بلکہ چلڈرن ایمرجنسی میں مریضوں کو کئی کئی دن اسٹریچرز پر رکھے جانے کی شکایات معمول بن چکی ہیں، جبکہ شدید سردی میں تیماردار ہسپتال کے فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

شہریوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ گزشتہ روز ڈونرز کی جانب سے تیمارداروں کے لیے بھجوائے گئے دو ٹرک کمبل اور دریاں مبینہ طور پر اسٹور میں غائب کر دی گئیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں گزشتہ 13 برس سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود ایمرجنسی وارڈز کی حالت بہتر نہ ہو سکی اور صحت کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کے بجائے نمائشی اقدامات پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top