راولپنڈی: وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کے طریقہ کار کی وضاحت کر دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملاقات کے لیے افراد کو بیان حلفی دینا ہوگا، جس میں یہ واضح کرنا ہوگا کہ ملاقات کے دوران کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوگی اور کسی ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا جائے گا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کرپشن کے کیسز کے باعث جیل میں ہیں اور انہیں اڈیالہ جیل میں تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو جیل میں 6 سے 7 کمرے دستیاب ہیں۔
یاد رہے ادھراڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنان کے دھرنے کا آج اختتام ہو گیا۔ واٹر کینن کے استعمال اور پولیس کے مظاہرین کی طرف مارچ کے بعد کارکن بھاگ کھڑے ہوئے اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
دھرنے کے دوران علیمہ خان اور علامہ راجہ ناصر عباس نے کارکنان کو چھوڑ کر واپس روانہ ہو گئے، جبکہ عمران خان کی بہنیں بھی محفوظ طور پر وہاں سے چلی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں سردی کے ساتھ صحت کے خطرات بڑھ گئے، نمونیا اور فالج کے کیسز میں اضافہ
واٹر کینن کے ایک وار نے تحریک انصاف کے جوش و جذبے کو جھنجھوڑا، اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کا امامہ چار بار زمین پر گر گیا۔
اس دوران شوکت بسرا کو ہلکی چوٹ آئی، جس پر علیمہ خان نے ان کی خدمات کا خراج تحسین پیش کیا۔
راولپنڈی پولیس نے دھرنے کی جگہ مکمل طور پر خالی کرالی اور جو کارکن گلیوں میں چھپ کر جان بچانے میں کامیاب ہوئے، انہیں بھی حراست میں لیا جا رہا ہے۔





