خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں شدید بدانتظامی بنیادی سہولیات کی کمی اور مریضوں کے ساتھ غیر انسانی رویوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
شہریوں کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے حالیہ دورے عملی اصلاحات کے بجائے محض رسمی دوروں اور تصویری سرگرمیوں تک محدود رہے جبکہ ہسپتال کے اندرونی حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سردی کی شدت میں اضافے کے باوجود ہسپتال میں بیڈز اور کمبل کی شدید قلت ہے جس کے باعث متعدد مریضوں کو فرش پر لٹا کر علاج کیا جا رہا ہے۔
ایمرجنسی میں موجود مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ گھنٹوں انتظار کے بعد انہیں بتایا جاتا ہے کہ بیڈ دستیاب نہیں، جس کے باعث مریضوں کو انتہائی نامساعد حالات میں رکھا جاتا ہے۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں خواتین مریضوں کے لیے الٹراساؤنڈ کی سہولیات بھی سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔
مریض خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں الٹراساؤنڈ کے لیے مرد ٹیکنیشنز کے پاس بھیجا جا رہا ہے جس پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے کوئی متبادل انتظام فراہم نہیں کیا گیا۔
اطفال وارڈ میں بھی صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے جہاں عملے کی کمی اور سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث بعض اوقات بچوں کے علاج سے انکار کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیمار بچوں کو گود میں اٹھائے ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ تک بھٹکتے رہتے ہیں مگر انہیں بروقت علاج میسر نہیں آتا۔
ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر ہسپتال کے دورے تو کیے جا رہے ہیں تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہنگامی بنیادوں پر بیڈز اور طبی عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ،خواتین کے لیے علیحدہ الٹراساؤنڈ سہولیات فراہم کی جائیں اور بچوں کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔





