سلمان یوسفزئی
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی چیلنجز اور دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے باوجود صوبہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک بڑی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 13 دسمبر 2025 تک صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر مجموعی طور پر ایک کروڑ 23 لاکھ 27 ہزار 941 ملکی جبکہ 8 ہزار 563 غیر ملکی سیاحوں نے رخ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاورمیں بدانتظامی، مریض شدید مشکلات کا شکار
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ملکی سیاح ناران کاغان پہنچے جہاں 36 لاکھ 99 ہزار 991 سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی تاہم غیر ملکی سیاحوں کی تعداد محض 17 رہی۔ اسی طرح گلیات میں 30 لاکھ 43 ہزار 920 ملکی اور 278 غیر ملکی سیاح آئے۔
سوات ویلی نے بھی سیاحت کے میدان میں نمایاں مقام برقرار رکھا جہاں 28 لاکھ 79 ہزار 660 ملکی اور 5 ہزار 379 غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی جو صوبے میں غیر ملکی سیاحوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
کالاش ویلی اور گرم چشمہ میں 9 لاکھ 22 ہزار 229 ملکی جبکہ 2 ہزار 193 غیر ملکی سیاح آئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ثقافتی اور مذہبی سیاحت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
دیگر علاقوں میں بونی مستوج میں 9 لاکھ 7 ہزار 336 ملکی اور 467 غیر ملکی جبکہ کمرات ویلی میں 8 لاکھ 74 ہزار 805 ملکی اور 229 غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
سیاحت کے ماہرین کے مطابق دہشتگردی کے واقعات کے باوجود سیاحوں کی یہ بڑی تعداد اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے قدرتی حسن، بہتر سیکیورٹی انتظامات، ٹورازم پولیس اور سیاحتی سہولیات نے عوام کا اعتماد بحال کیا ہے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا پولیس چیک پوسٹس، لیویز چیک پوسٹس، سیاحتی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مرتب کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر سیکیورٹی صورتحال مزید مستحکم رہی تو آنے والے برسوں میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو صوبے کی معیشت اور روزگار کے مواقع کے لیے خوش آئند ثابت ہوگا۔





