نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنا یا اس کا رخ موڑنا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی اور اس پر عملدرآمد کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
دفتر خارجہ میں بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار نے بھی بھارتی آبی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ڈیمز کی تعمیر سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں پانی کے غیرقانونی استعمال کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ رواں سال دریائے چناب کے بہاؤ میں دو مرتبہ غیرمعمولی تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ بھارت نے پیشگی اطلاع کے بغیر دریا میں پانی چھوڑا، بھارتی اقدامات ویانا کنونشن کے آرٹیکل 26 کی بھی خلاف ورزی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور پاکستان کی غذائی سلامتی بھی متاثر ہو رہی ہے، بھارت کا حالیہ طرزعمل پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کیا حالانکہ معاہدہ نافذ العمل ہے اور اس کی پاسداری دونوں فریقین پر لازم ہے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ممکن نہیں۔
وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ کشن گنگا اور رتلے جیسے منصوبے معاہدے کی تکنیکی شرائط کی خلاف ورزی ہیں جبکہ بھارت ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی اور مشترکہ نگرانی کا عمل بھی روک چکا ہے، انہوں نے کہا کہ جون اور اگست 2025 میں ثالث عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت برقرار رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے مودی سرکار کے جھوٹ کاپردہ چاک کردیا
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارتی غیرقانونی ڈیمز کی تعمیر اور آبی اقدامات پاکستان کی سلامتی، معیشت اور عوام کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہیں اور یہ اقدامات انسانی بحران کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے اور پاکستان تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے۔





