توشہ خانہ کیس ٹو! عمران خان کو صادق و امین کہنے والوں کیلئے پیغام ہے ، عظمیٰ بخاری

توشہ خانہ کیس ٹو! عمران خان کو صادق و امین کہنے والوں کیلئے پیغام ہے ، عظمیٰ بخاری

توشہ خانہ کیس ٹو! وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہناہے کہ یہ فیصلہ عمران خان کو صادق و امین کہنے والوں کے لیے سبق ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے توشہ خانہ کیس ٹو کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن قوم کے لیے ایک تکلیف اور شرمندگی کا دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست کے نام پر دوسروں کو چور اور ڈاکو قرار دینے والے لوگ اقتدار تک پہنچے، جن کا اصل مقصد سیاست نہیں بلکہ ہیروں اور پیسوں کا ذخیرہ کرنا تھا۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے، جو عمران خان کو صادق و امین کہتے رہے اور جھوٹے فیک دستاویزات کے ذریعے ان کا ٹیگ لگاتے رہے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ پہلے توشہ خانہ کے تحائف کے لیے 50 فیصد ادائیگی لازمی قرار دی گئی تھی، لیکن بانی پی ٹی آئی نے تحائف کی قیمت کو انڈر انوائسنگ کے ذریعے صرف 58 لاکھ روپے لگوایا، جبکہ اصل قیمت تقریباً 7 کروڑ روپے تھی، جو بددیانتی کی واضح مثال ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عمران خان اقتدار میں صرف ہیروں کے کاروبار کے لیے آئے تھے اور انہیں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے چور دروازے سے اقتدار میں داخل ہونے کی کوشش کی اور مخالفین کو چور اور ڈاکو قرار دینے کے عادی تھے، جبکہ حقیقت میں ان کے اپنے دور میں کرپشن اور چوریاں ہوئیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے فیض حمید کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ بنایا، جس کے تحت مخالفین کو چور اور ڈاکو قرار دیا گیا۔ اسی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں بانی پی ٹی آئی اقتدار میں آئے، جبکہ آف شور کمپنی چیریٹی کے پیسوں سے منصوبے بنانے جیسے الزامات بھی سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ بنی گالہ کے مبینہ جعلی دستاویزات کے باوجود پروجیکٹ فیض حمید کے تحت انہیں صادق و امین قرار دیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے اس بات پر زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی مبینہ کرپشن اور چوریوں کی کہانیاں اب زبان زد عام ہیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ وہ اقتدار میں ہیروں کے کاروبار کے لیے آئے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے اور قانون کی حکمرانی سب پر یکساں طور پر لاگو ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص ریاستی وسائل سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔

Scroll to Top