اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ طے! نوٹیفکیشن ہو یا نہ ہو، محمود اچکزئی اور ناصر عباس ہی اپوزیشن لیڈر ہیں، بیرسٹر گوہر

اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ طے! نوٹیفکیشن ہو یا نہ ہو، محمود اچکزئی اور ناصر عباس ہی اپوزیشن لیڈر ہیں، بیرسٹر گوہر

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے قومی کانفرنس میں بیرسٹر گوہر علی خان نے اہم سیاسی بیانات دیے، جن میں انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے معاملے اور موجودہ سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس وقت عوام میں تحریک چلانے کا جذبہ موجود ہے اور حکومت کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن کسی تحریک یا احتجاج کے لیے آگے آئے تو عوام ضرور اس میں شامل ہوں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس وقت مقبول قائد صرف تحریک انصاف کے بانی ہیں اور حالیہ سیاسی صورتحال میں بعض نشستیں چھین لی گئی ہیں، جس میں ہری پور کی نشست بھی شامل ہے۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمر ایوب کو 50 سال جبکہ شبلی فراز کو 40 سال قید کی سزا دی گئی ہے، اور عدلیہ سے تعلقات بھی 26ویں ترمیم سے پہلے خوشگوار نہیں تھے اور آج بھی وہی صورتحال برقرار ہے۔

اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ نوٹیفکیشن ہو یا نہ ہو، محمود اچکزئی اور ناصر عباس ہی اپوزیشن لیڈر رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈرز کو چاہے ڈائیلاگ کرنا ہو یا احتجاج، ان کے ساتھ مکمل تعاون موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں 175 سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں، جن میں سے 14 پارٹیاں پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے معاملے میں بیرسٹر گوہر نے مولانا فضل الرحمان کو بھی سننے کے لیے تیار ہونے کا عندیہ دیا۔

کانفرنس میں بیرسٹر گوہر کے بیانات نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور یہ واضح کر دیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنی پالیسیوں اور موقف پر قائم ہے، جبکہ عوام بھی کسی تحریک یا احتجاج میں بھرپور شرکت کے لیے تیار ہیں۔

Scroll to Top