پی ٹی آئی پہلے اپنی غلطیوں پر معافی مانگے، پھر مذاکرات ہوں گے، عطااللہ تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے ملک کی بدنامی کے لیے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے اور ملکی مفادات کے خلاف کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پی ٹی آئی کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے دنیا کے سامنے معافی مانگنی ہوگی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس بات چیت کے لیے کوئی آپشن نہیں، لیکن اگر وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں برطانیہ اور امریکا سے آپریٹ ہونے والے اکاؤنٹس سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔

عطااللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی قیادت پر الزام لگایا کہ انہوں نے پاک فوج اور فیلڈ مارشل کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مئی کے واقعات کے بعد دنیا بھر میں وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔

عطااللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان نہیں تو پاکستان نہیں جیسے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے خیالات پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اب بدل چکا ہے اور وہ اب ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا نہیں، بلکہ ایک مضبوط ملک بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خوشی کی محفل جیل کی سیر بن گئی، دُلہا پھولوں کے ہار کے ساتھ حوالات میں بند

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ جس نے بھی پاکستان کے ساتھ دغا کیا، اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا، اور پی ٹی آئی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی خود کو پاکستان سے بڑا سمجھتا ہے، تو اسے اپنا دماغ درست کرنا ہوگا کیونکہ فوج اور قیادت کو گالیاں دینے سے نہ تو کوئی راستہ کھلے گا، نہ ہی ملک میں ترقی ممکن ہو سکے گی۔

عطااللہ تارڑ نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ پاکستان میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو بند کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، تاہم سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتر کھولنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ یہاں کے شہریوں کو بہتر سروسز فراہم کی جا سکیں۔

وزیر اطلاعات نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملکی مفادات کے خلاف سازشوں میں ملوث نہ ہوں اور ملک کی ترقی کے لیے مثبت سوچ اپنائیں۔

Scroll to Top