ملکی سیاست میں اہم پیش رفت، بیرسٹر گوہر کی ہم خیال جماعتوں کو یکجا کرنے کی تجویز، سیاسی اتحاد اور جامع مذاکرات کی بازگشت۔
تفصیلات کے مطابق ملکی سیاست میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر نے ہم خیال سیاسی جماعتوں کو آپس میں ملانے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں سیاسی اتحاد اور جامع مذاکرات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک صوبے کو تمام وسائل دیے جا رہے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کو اس کا آئینی حق نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی مبینہ کرپشن رپورٹ پر کوئی بات نہیں کی جا رہی، جبکہ وفاق کے ذمے صوبے کے واجب الادا فنڈز فوری طور پر ادا کیے جانے چاہئیں۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے پنجاب میں رہائش تک مشکل بنا دی گئی ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل درآمد کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کے بغیر گروتھ ممکن نہیں اور تمام سیاسی قوتوں کو آئین کی بالادستی اور بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بیرسٹر گوہر کی جانب سے جماعتی اتحاد کی تجویز آئندہ دنوں میں ملکی سیاست کا رخ متعین کر سکتی ہے، اور اگر ہم خیال جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آ گئیں تو سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔





