موٹر وے ٹول ٹیکس میں اضافہ! عدالت نے پالیسی کی وضاحت طلب کر لی، سماعت ملتوی

موٹر وے ٹول ٹیکس میں اضافہ! عدالت نے پالیسی کی وضاحت طلب کر لی، سماعت ملتوی

موٹر وے پر ٹول ٹیکس میں اضافے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت جسٹس نعیم انور اور جسٹس فرح جمشید کی سربراہی میں جاری رہی، جس دوران عدالت نے این ایچ اے کی ٹول ٹیکس پالیسی کی وضاحت طلب کر دی ۔

موٹر وے کے قیام کے بعد 2010 میں متعارف کرائی گئی ٹول ٹیکس پالیسی میں ایم ون، ایم ٹو اور ایم تھری کے لیے الگ الگ ٹیکس کی شرح طے کی گئی ہے۔ وکیل درخواست گزار آصف علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ پالیسی کے مطابق ہر تین سال بعد ٹیکس میں اضافہ کیا جانا چاہیے، لیکن گزشتہ سالوں میں ایک سال میں تین بار اضافہ کیا گیا۔

آصف علی شاہ نے مزید کہا کہ رشکئی سے چارسدہ اور پھر پشاور تک کے ٹول پلازے 35 کلومیٹر سے کم فاصلے پر ہیں، اس لیے فارمولے کے مطابق ان پر کوئی ٹیکس نہیں لگنا چاہیے، مگر این ایچ اے ایم ٹیگ اور نان ایم ٹیگ کے لیے الگ الگ چارجز وصول کر رہا ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ این ایچ اے ٹیکس فارمولے کی وضاحت کرے اور نئی پالیسی عدالت کے سامنے پیش کی جائے۔

این ایچ اے کے وکیل نے جواب میں کہا کہ ایم ٹیگ رجیم کے تحت جو گاڑیاں ایم ٹیگ پر منتقل ہو گئی ہیں، ان سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے تاکہ رش کم ہو اور سیکیورٹی رسک بھی کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ فارمولے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور ٹیکس میں اضافہ اسی پالیسی کے مطابق کیا گیا۔ این ایچ اے کے وکیل نے مزید کہا کہ غیر ایم ٹیگ گاڑیوں سے اضافی چارجز لینے کا مقصد انہیں ایم ٹیگ پر منتقل کرنا ہے، اور یہ اقدام نقل و حمل کے بنیادی حقوق متاثر نہیں کر رہا۔

عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ چارسدہ اور مردان تک ٹیکس فارمولے کی وضاحت کریں تاکہ پالیسی کی شفافیت سامنے آئے۔ وکیل نے کہا کہ ہم فی کلو میٹر 3.42 روپے کے حساب سے ٹیکس وصول کر رہے ہیں اور اس فارمولے میں شفافیت کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کیس موٹر وے ٹول ٹیکس میں شفافیت اور ایم ٹیگ سسٹم کے نفاذ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے، جس کا فیصلہ ملک کے شہریوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام پر اثر ڈال سکتا ہے۔

نیشنل ہائی وے چیئرمین اور ڈائریکٹر ریوینیو کے خلاف دائر توہین عدالت درخواست پر سماعت جسٹس نعیم انور اور جسٹس فرح جمشید نے کی عدالت نے اگلی سماعت پر این ایچ اے چیئرمین اور ڈائریکٹر ریوینیو این ایچ اے کو طلب کرلیا عدالت کا اگلی پیشی پر شہادتین بھی ریکارڈ کرنے کا حکم ،عدالت نے مزید سماعت 27 جنوری تک ملتوی کردی

 

Scroll to Top