پشاور میں مسلسل فائرنگ سے خوف و ہراس کی خبر فیک نکلی

سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر گردش کرنے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پشاور کے خزانۂ شوگر اور خزانۂ تانہ کے علاقوں میں شدید اور مسلسل فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، لوگ گھروں میں محصور ہیں اور ٹریفک بھی متاثر ہو رہی ہے۔

فیکٹ چیک کے دوران یہ دعوے درست ثابت نہیں ہوئے۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس مبینہ واقعے کے حوالے سے کسی بھی مستند قومی یا علاقائی نیوز ادارے (جیسے ٹی وی چینلز، اخبارات یا نیوز ویب سائٹس) پر کوئی خبر شائع نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ پولیس، ضلعی انتظامیہ یا کسی سیکیورٹی ادارے کی جانب سے بھی ایسا کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا جو اس خبر کی تصدیق کرتا ہو۔

فیکٹ چیک میں یہ بھی سامنے آیا کہ ماضی میں پشاور کے مختلف علاقوں میں انفرادی نوعیت کے فائرنگ یا دیگر جرائم کے واقعات ضرور رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم ہر پانچ منٹ بعد مسلسل فائرنگ، پورے علاقے میں محصور ہونے یا بڑے پیمانے پر خوف و ہراس جیسے دعووں کی کوئی ٹھوس شہادت موجود نہیں۔

مزید یہ کہ خبر میں استعمال کی گئی زبان مبہم، جذباتی اور غیر تصدیق شدہ عینی شہادتوں پر مبنی ہے، جو عام طور پر فیک یا گمراہ کن اطلاعات کی نشاندہی کرتی ہے۔

Scroll to Top