قانون سازی،رواں سال 2025 خیبرپختونخوا اسمبلی کیلئے تاریخ ساز قرار

شاہد جان

سال 2025 خیبرپختونخوا اسمبلی کے لیے قانون سازی کے حوالے سے ایک تاریخی سال ثابت ہوا۔

ایک جانب اسمبلی نے بڑی تعداد میں قوانین منظور کیےتو دوسری جانب 37 سال بعد اپنے قواعد و ضوابط میں جامع ترامیم کرتے ہوئے رولز آف پروسیجر 2025 بھی منظور کر لیے گئے۔

صوبے کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبرپختونخوا اسمبلی ہال میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر پر مشتمل بڑا جرگہ بھی منعقد کیا گیا۔

اسمبلی ریکارڈ کے مطابق سال 2025 میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے مجموعی طور پر پانچ سیشنز بلائے گئےجن کے دوران 108 اجلاس ہوئے۔ان اجلاسوں میں 34 بل پیش کیے گئےجن میں سے 26 منظور ہوئے، چار بل پیش ہونے کے بعد آگے نہ بڑھ سکے جبکہ چار بل مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ کمیٹیوں کو ریفر کر دیے گئے۔

رواں سال کے دوران ایوان میں 63 قراردادیں جمع کرائی گئیں جو متفقہ یا اکثریتی رائے سے منظور ہوئیں۔اسی طرح مختلف محکموں سے معلومات کے لیے 98 سوالات پوچھے گئےجن میں سے 56 کے جوابات پر اراکین مطمئن رہے جبکہ 42 سوالات کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیاجس پر ان معاملات کو مزید وضاحت کے لیے کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔

سب سے زیادہ سوالات پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے جمع کرائےجن کی تعداد 21 رہی۔دوسرے نمبر پر جے یو آئی کے عدنان وزیر نے 13 جبکہ تیسرے نمبر پر مسلم لیگ نون کی ایم پی اے صوبیہ شاہد نے 11 سوالات جمع کرائے۔

سال 2025 کے دوران اسمبلی میں 47 توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرائے گئے جبکہ 8 اراکین نے تحریکِ استحقاق بھی پیش کی۔اجلاسوں کے دوران صوبے کے مختلف مسائل زیرِ بحث رہے تاہم سب سے زیادہ گفتگو صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ہوئی۔

اراکین کی غیر حاضری اور غیر سنجیدگی کے باعث 11 مرتبہ کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔اسمبلی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ برسوں کی طرح رواں سال بھی بیشتر اجلاس غیر معمولی تاخیر کا شکار رہے۔ اجلاس شروع کرانے کے لیے گھنٹیاں بجتی رہیں تاہم اراکین کی تاخیر سے آمد کے باعث کئی اجلاس بروقت شروع نہ ہو سکے جس سے اسمبلی کی کارروائی اور مجموعی کارکردگی متاثر ہوئی۔

Scroll to Top