بھگوڑے عادل فاروق راجہ کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1977 کے سیکشن 11EE کے تحت ’’ممنوع شخص‘‘ قرار دینے سے متعلق سمری کی کابینہ ڈویژن نے منظوری دے دی ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق مذکورہ سمری نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ن (این سی سی آئی اے) اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی ٹیم کے ساتھ مکمل جانچ پڑتال کے بعد تیار کی گئی تھی۔
سمری میں تمام ضروری پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے منظوری کے لیے کابینہ ڈویژن کو ارسال کیا تھاجہاں سے اسے منظور کر لیا گیا۔
کابینہ ڈویژن کی منظوری کے بعد بھگوڑے عادل فاروق راجہ کو باضابطہ طور پر ’’ممنوع شخص‘‘ قرار دیے جانے کے اثرات بھی واضح کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بریگیڈیئر راشد نصیر کے حق میں فیصلہ جاری ،لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کوجھوٹا قراردیدیا
اس فیصلے کے نتیجے میں ان پر مکمل سفری پابندی عائد ہو جائے گی اور وہ کسی بھی مقصد کے لیے سفر نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ان پر ملازمت سے متعلق پابندی بھی لاگو ہو گی اور وہ کسی بھی قسم کی ملازمت کے اہل نہیں ہوں گے۔
بھگوڑے عادل فاروق راجہ پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان کا پاسپورٹ مزید تجدید کے قابل نہیں ہوگا اور اس کی غیر تجدید بھی اس فیصلے کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر مالی پابندیاں، یعنی فنانشل ایمبارگو نافذ ہوں گی اور کسی بھی قسم کے مالی لین دین پر قدغن ہو گی۔
فیصلے کے تحت ان پر اسلحہ رکھنے یا اس سے متعلق کسی سرگرمی پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مزید برآں ان کی ہر قسم کی جائیداد ضبط کیے جانے کا اختیار بھی شامل ہے۔
اعلان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان سے کوئی بھی شخص ان کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ یا تعامل نہیں کر سکے گا۔
اس کے علاوہ اگر ان کے خلاف ریڈ وارنٹس جاری کیے جاتے ہیں تو ان کے اثرات مزید بڑھ جائیں گے اور ان پر سخت نتائج مرتب ہوں گے۔
حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیے جا رہے ہیں اور ان پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جائے گا۔





