سینیٹر ناصر بٹ نے کہا ہے کہ احتجاج اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور اپوزیشن کو واضح راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر ناصر بٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم خود اسمبلی میں جا کر اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دے چکے ہیں۔
ناصر بٹ نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم غیر قانونی اقدامات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سڑکیں بند کرنا، غیر متعلقہ مقامات پر جانا اور انتشار پھیلانا نہ احتجاج ہے نہ سیاست، حکومت سیاسی استحکام چاہتی ہے اور جائز مطالبات پر بات کے لیے آمادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات سمیت تمام آئینی اور قانونی مطالبات پر مذاکرات ہو سکتے ہیں اور عدالتی فیصلے عدالتوں میں ہی چیلنج ہوں گے، حکومت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔
ناصر بٹ کا کہنا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل بات چیت اور آئینی عمل میں ہے، انتشار میں نہیں، حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون کی بالادستی اور سیاسی استحکام اولین ترجیح ہیں۔
سینیٹر ناصر بٹ نے مزید کہا کہ تحریک تحفظ آئین کے اراکین کے درمیان مظاہروں اور مذاکرات کے حوالے سے واضح رائے نہیں ہے، کچھ اراکین احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ بعض حکومت سے بات چیت کے حامی ہیں، حکومت نے کمیٹی بنانے کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ بات چیت منظم انداز میں ہو سکے۔
سینیٹر ناصر بٹ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں میں داخلی اعتماد اور حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ بن رہی ہے۔





