یوکرین تنازع کوپر امن طریقے سے حل کرنا چاہے تو روس تیار ہے،صدر پیوٹن

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ اگر یوکرین تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے تو روس اس کے لیے تیار ہے۔

صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں موجود سمجھدار لوگ بھی یوکرین کو امن کے لیے شرائط قبول کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ امن کا فیصلہ یوکرین کے ہاتھ میں ہے تاہم اگر یوکرین نے امن کا راستہ اختیار نہ کیا تو روس اپنے اہداف کے حصول کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

دوسری جانب یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین کی خوشحالی کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک جامع روڈ میپ پر کام کیا جا رہا ہے۔

یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ویژن میں 2040 تک امریکہ کے ساتھ سرمایہ کاری سمیت مختلف ترقیاتی اہداف شامل ہیں۔

صدر زیلنسکی نے مزید بتایا کہ جنگ سے متاثرہ یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 700 سے 800 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

ادھر یورپ میں سکیورٹی خدشات کے حوالے سے سوئس آرمی چیف تھامس سوسلی نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس کی جانب سے حملہ ہوا تو سوئٹزرلینڈ کے پاس مؤثر دفاعی صلاحیت موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ میں اضافے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ فوج کو ساز و سامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

تھامس سوسلی کے مطابق ہنگامی صورتِ حال میں سوئس فوج کا صرف ایک تہائی حصہ ہی مکمل طور پر جنگ کے لیے تیار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا سروس معطل کر دی

انہوں نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.7 فیصد ہیں، جو نیٹو کے مقررہ ہدف 5 فیصد سے کہیں کم ہیں، موجودہ رفتار سے سوئس فوج 2050 تک ہی مکمل طور پر تیار ہو سکے گی۔

Scroll to Top