نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خاتمہ دونوں حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔
تفصیلات کے مطابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، لیاقت بلوچ نے اس بات پر زور دیا کہ امن قائم کرنے کے لیے دونوں ممالک کی قیادت کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ تعلقات مزید خراب ہونے سے بچ سکیں۔لیاقت بلوچ نے اس موقع پر آئینی معاملات پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم آئین کو متنازع بنانے کی سازش ہیں، جنہیں ہر صورت مسترد کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے کسی بھی قسم کی عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش قابل تشویش ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 30 دسمبر کو منصورہ میں پنجاب سے جماعت اسلامی کے عہدیداران کا گرینڈ کنونشن ہوگا، جس میں پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی اور عوامی مسائل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
مزید برآں، لیاقت بلوچ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے اور روڈ میپ کے حوالے سے کہا کہ سودی نظام کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں شریعت کے مطابق معاشی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں حکومتیں اپنا کردار ادا کریں اور آئینی اصلاحات اور معاشی نظام میں اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کیا جائے۔





