عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ تیمرگرہ میڈیکل کالج کا رول بیک کسی بھی طور قبول نہیں کریں گے۔
حسین شاہ یوسفزئی نے اپنے جاری بیان میں کہاکہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کالج کا گزشتہ دس سال سے غیر فعال رہنا صوبائی حکومت کی بدترین انتظامی ناکامی، نااہلی اور کرپشن کا کھلا ثبوت ہے۔ یہ منصوبہ 2015 میں باقاعدہ افتتاح کے باوجود آج تک تدریسی عمل شروع کرنے میں ناکام ہے، جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں کے ساتھ سنگین مذاق کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک اس منصوبے پر چار ارب روپے سے زائد رقم سرکاری خزانے سے خرچ کی جا چکی ہے، مگر اب تک کالج کو پی ایم ڈی سی کی شرائط کے مطابق فعال نہیں بنایا جاسکا۔ دس سال گزرنے کے باوجود بنیادی تعلیمی و انتظامی تقاضے پورے نہ ہونا حکمرانوں کی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔ بارہا اعلانات کیے گئے کہ 2025 میں داخلے شروع کیے جائیں گے، مگر وہ سیشن بھی گزر گیا اور آج تک داخلوں کا آغاز نہ ہو سکا۔
حسین شاہ یوسفزئی نے نشاندہی کی کہ کالج اب تک تدریسی طور پر غیر فعال ہے مگر 2022 میں سیاسی بنیادوں پر تقریباً 190 ملازمین کی بھرتی کی گئی، جنہیں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں ۔ اسی طرح کالج کے لیے زمین کی خریداری اور سازوسامان کی فراہمی میں کرپشن کے انکشافات سامنے آئے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اب تک ان الزامات کی شفاف اور مکمل تحقیقات نہیں ہو سکیں۔یہ صورتحال بدترین مالی بدانتظامی اور وسائل کے ضیاع کی واضح مثال ہے۔
اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے مطالبہ کیا کہ تیمرگرہ میڈیکل کالج میں ہونے والی کرپشن میں ملوث تمام کرداروں کو قوم کے سامنے لایا جائے، لوٹی گئی رقم کا حساب لیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم معاملے اپر دیر سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کی اس سنگین معاملے پر مجرمانہ خاموشی قابل مذمت اور اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کو عوام کی فلاح سے کوئی سروکار نہیں۔ صوبائی حکومت کو قیدی کی رہائی سے فرصت ملے تو صوبے میں جاری بدانتظامی، کرپشن، عوام کے بنیادی مسائل اور جاری بدامنی پر بھی سنجیدہ توجہ دے۔ اے این پی عوامی وسائل کے تحفظ اور شفاف احتساب کی جدوجہد جاری رکھے گی۔





