خیبر پختونخوا اسمبلی کی اسپیشل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی

شاہد جان 

 خیبر پختونخوا اسمبلی کی اسپیشل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق آئی جی خیبر پختونخوا نے اجلاس کو رواں سال صوبے میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تعداد، شہادتوں اور زخمیوں سے متعلق آگاہ کیا جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور ہلاکتوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔

اجلاس میں آئی جی نے ایک بار پھر پولیس کو درپیش وسائل کی شدید کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں پولیس اہلکاروں اور تھانوں کی تعداد ناکافی ہے، متعدد تھانے خستہ حال ہیں اور پولیس کے پاس مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب نہیں۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی نفری انتہائی کم ہے، سنٹرز کی کمی ہے اور پولیس و سی ٹی ڈی کو فنڈز کے سنگین مسائل درپیش ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی جی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دہشت گرد جدید اسلحہ استعمال کر رہے ہیں، جن میں کواڈ کاپٹر ڈرونز اور نائٹ ویژن آلات شامل ہیں جبکہ پولیس کے پاس اس کے مقابلے میں جدید اسلحے کی شدید کمی ہے۔

آئی جی نے کہا کہ پولیس کو مؤثر بنانے کے لیے اضافی فنڈز ناگزیر ہیں اور اس مسئلے کی نشاندہی گزشتہ اجلاس میں بھی کی جا چکی ہے۔

اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ اگر رنگ روڈ کے لیے مختص فنڈ کا نصف حصہ پولیس کو فراہم کر دیا جائے تو پولیس کو نمایاں طور پر مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

آئی جی نے سی ٹی ڈی میں بھرتیوں، پولیس کے لیے گرانٹس، فنڈز اور سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری پر وزیراعلیٰ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ کے خلاف عدالت میں بیان دینے پر آئی جی ذوالفقار حمید کی سرزنش کی۔

اسپیکر نے کہا کہ آپ صوبے کے پولیس سربراہ ہیں، آپ حکومت کے منظور شدہ ایکٹ کے خلاف کیسے بیان دے سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی اس ایکٹ کو منظور کر چکی ہے جس کے تحت وزیراعلیٰ کو گریڈ 18 سے اوپر کے پولیس افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران کمیٹی کے اراکین نے سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کے حوالے سے بھی آئی جی سے سوالات کیے۔

اپوزیشن کے ایک رکن اسمبلی نے اپنی غیر موجودگی میں اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے کی شکایت بھی کی۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کے اراکین نے سیکیورٹی صورتحال پر آئندہ اجلاس میں کور کمانڈر کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔

Scroll to Top