ڈھاکا: بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ آج ڈھاکا میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ادا کی جائے گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
وہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر ڈھاکا روانہ ہوئے ہیں اور خالدہ ضیا کے اہلِ خانہ سے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔
خالدہ ضیا کو قومی اعزاز کے ساتھ بنگلا دیش کے سابق صدر اور ان کے شوہر ضیاء الرحمان کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ان کے انتقال پر بنگلا دیش میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
خالدہ ضیا جگر کے عارضے سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا تھیں اور کافی عرصے سے ڈھاکا کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھیں، تاہم گزشتہ روز وہ انتقال کر گئیں۔
خالدہ ضیا بنگلا دیش کی اہم اور بااثر سیاسی رہنما تھیں۔ انہوں نے 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک بنگلا دیش کی وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں، جبکہ مسلم دنیا میں بے نظیر بھٹو کے بعد دوسری خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل تھا۔
وہ بنگلا دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کی اہلیہ تھیں۔ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران ان پر کرپشن کے الزامات بھی لگے اور 2018 میں انہیں پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
خالدہ ضیا کے انتقال پر بنگلا دیش سمیت دنیا بھر میں ان کے مداحوں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد چل بسیں
یاد رہے کہ گزشتہ روز بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ پارٹی کی جانب سے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیا جگر کے سنگین عارضے میں مبتلا تھیں اور کافی عرصے سے اسپتال میں زیر علاج رہیں۔ گزشتہ روز ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ان کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر ضیاء الحق نے بتایا کہ خالدہ ضیا کو لائف سپورٹ پر رکھا گیا تھا اور باقاعدگی سے ڈائیلاسس کیا جا رہا تھا۔





