تحریک انصاف پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، فیصل کنڈی نے پی ٹی آئی کے اندر کی حقیقت بے نقاب کر دی

تحریک انصاف پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، فیصل کنڈی نے پی ٹی آئی کے اندر کی حقیقت بے نقاب کر دی

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ، ماضی میں بھی پی ٹی آئی نے مذاکرات کو سبوتاژ کیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماضی میں بھی یہ جماعت مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت تضادات کا شکار ہے اور ایک واضح مؤقف اپنانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

فیصل کنڈی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر مستقبل میں کسی قسم کے مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو ان میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا کسی این آر او پر بات نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو اپنی سزا قانون کے مطابق بھگتنا ہوگی اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ابھی تک پاکستان پیپلز پارٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی مذاکرات کی کوئی سنجیدہ پیش رفت ہوتی تو پیپلز پارٹی کی قیادت، خصوصاً چیئرمین پارٹی، اس حوالے سے ضرور بیان دیتے۔

فیصل کنڈی نے پی ٹی آئی پر صوبہ خیبرپختونخوا کو نظرانداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ایک شخص کے گرد سیاست گھما کر پورے صوبے کو نقصان پہنچایا، جبکہ پارٹی کو چاہیے تھا کہ وہ صوبے کی گورننس اور عوامی مسائل پر توجہ دیتی۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 16 ماہ کی حکومت کے دوران اتحادیوں اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا گیا، لیکن اس کے بعد 9 مئی جیسے واقعات پیش آئے جنہوں نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔

فیصل کنڈی کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ اس بات کے حامی رہے ہیں کہ سیاسی مسائل کا حل سیاست دانوں کے ذریعے ہی نکلنا چاہیے، مگر پی ٹی آئی کی قیادت ایک طرف مذاکرات کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد پر چڑھائی جیسے بیانات اور ٹوئٹس سامنے آتے ہیں، جو انتشار کو ہوا دیتے ہیں۔

گورنر کے پی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر ہی اعتماد کا فقدان ہے اور پارٹی کے رہنما ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے۔

فیصل کنڈی نے اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے نام دیے، لیکن یہ واضح نہیں کہ ان رہنماؤں کی “ایکسپائری تاریخ” کیا ہے۔ ان کے بقول، پی ٹی آئی کا جس سے کام ختم ہو جائے، اسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

فیصل کنڈی کے ان بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی کی اندرونی پالیسی، قیادت اور مذاکراتی حکمت عملی کس سمت جا رہی ہے، اور آیا پارٹی مستقبل میں کسی واضح سیاسی راستے کا تعین کر پائے گی یا نہیں۔

Scroll to Top