اسلام آباد: مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے انکشاف کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ان کی چکی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی چکی کے درمیان صرف ایک دیوار کا فاصلہ تھا، جس کے باعث انہیں بعض اوقات عمران خان اور ان کے مشقتی کے درمیان ہونے والی گفتگو سنائی دیتی تھی۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انجینئر محمد علی مرزا نے بتایا کہ جیل میں ان کی چکی کی پچھلی دیوار کی جانب عمران خان کو رکھا گیا تھا۔
ان کے مطابق عمران خان کے لیے مجموعی طور پر چھ چکیاں مختص تھیں، جن میں سے ایک چکی کا رقبہ تقریباً 10×12 تھا، جبکہ ان کے لیے ایک مشقتی بھی مقرر کیا گیا تھا۔
انجینئر مرزا نے بتایا کہ انہیں کبھی کبھار عمران خان کی آواز سنائی دیتی تھی، جو وہ اپنے مشقتی سے گفتگو کے دوران کرتے تھے۔ عمران خان عموماً کرکٹ پر بات کرتے تھے جبکہ سیاست پر گفتگو سے گریز کرتے تھے۔
مزید کہا گیاکہ عمران خان کو جیل میں ٹی وی کی سہولت حاصل تھی اور انہیں روزانہ دو اخبارات فراہم کیے جاتے تھے۔
ان کے کھانے میں دیسی گھی کے تڑکے کے ساتھ گوشت، جوس، خشک میوہ جات اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔ ان کے لیے روزانہ طبی معائنہ بھی کیا جاتا تھا۔
انجینئر محمد علی مرزا نے بتایا کہ چار نومبر کے بعد عمران خان کی آواز سنائی دینا بند ہو گئی، جس پر بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں جیل کے دوسرے حصے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں دھوپ کی بہتر سہولت موجود تھی۔
ان کے مطابق بعض اوقات عمران خان اپنے مشقتی سے اونچی آواز میں بات کرتے تھے، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ غصے یا ذہنی دباؤ کی حالت میں ہیں۔
عمران خان روزانہ دوپہر تین بجے کھانے کے لیے آتے تھے اور اس سے قبل مشقتی کھانے کی تیاری شروع کر دیتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : اڈیالہ جیل میں عمران خان اور میری چکی کے درمیان صرف ایک دیوار کا فاصلہ تھا،انجینئر محمد علی مرزا کا انکشاف
انجینئر محمد علی مرزا نے کہا کہ چونکہ وہ خود بھی جیل میں ٹی وی اور اخبارات دیکھتے تھے، اس لیے انہیں معلوم تھا کہ باہر عمران خان کے بیانات اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق مختلف معاملات زیرِ بحث رہتے ہیں، ممکن ہے اسی وجہ سے عمران خان بعض اوقات ذہنی دباؤ اور فرسٹریشن کا اظہار کرتے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جیل میں خاصے فرسٹریٹڈ دکھائی دیتے تھے، کیونکہ انہیں قید میں دو سال مکمل ہونے کو ہیں۔
تاہم انجینئر محمد علی مرزا نے واضح کیا کہ جیل میں سنی جانے والی بعض باتیں وہ میڈیا پر بیان نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ اس سے ممکنہ طور پر عمران خان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔





